Lumpy Skin Disease In Cattle

 مویشیوں میں چمڑی/جلد کی بیماری


تعارف          :

یہ بیماری ایک خاص قسم کے وائرس (ایل ایس ڈی) جیسے کیپری پوکس وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں مویشیوں کے لئے ایک ابھرتا ہوا خطرہ ہے۔

اس وائرس کے بارے جو تحقیقات کی گئی ہیں وہ اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ زہر دراصل بکری اور بھیڑ کے وائرس کے خاندان سے متعلق ہے۔

وائرس کیسے پھیلاتا ہے؟ 

ایل ایس ڈی بنیادی طور پر گائے اور بھینسوں میں خون پینے والے کیڑوں کی مدد سے پھیلتا ہے یہ مویشیوں سے خاص طور پر بھینسوں کے پانی میں جانے سے یہ خون چوسنے والے کیڑے مکھیوں اور کچھ دیگر حشرات سے اس بیماری کا سبب بن رہے ہیں۔

 جس کی طبی علامات جانور کی چمڑی یا کھال پر دائرے ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے اس کا وزن فوری طور پر کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ان کی پیداوار دودھ بھی کافی حد تک متاثر ہوتی ہے۔

نقصانات کی اطلاعات

یہ سرسری سروے کیمطابق اس وائرس نے لگ بھگ 50 لاکھ فارمرز اور گوشت بیچنے والوں کو اس بیماری کے باعث بہت نقصان اٹھانا پڑا.

حال ہی میں پاکستان کے صوبہ سندھ میں اپریل 2022 تک تقریباً 36,000 مویشیوں پر اس بیماری کا حملہ ہو چکا ہے جن میں سے شرح اموات کم ہے جس سے صرف 300 مویشیوں کی اموات ہوئی ہے۔

انسانوں کے لئے خطرہ/اس وائرس کی منتقلی۔

یہ وائرس سب سے پہلے 1928 افریقہ میں دریافت کیا گیا تھا تاحال انسان تک اس کے حملے کی کوئی براہ راست روپورٹ منظر عام پر نہیں آئی ہے لیکن سماجی اور معاشی منفی اثرات کیوجہ سے یہ ایک قابل ذکر بیماری کے طور پر درج کیا جا چکا ہے۔

سندھ کے ایک مشہور سلوتری ڈاکٹر سولنگی کا کہنا ہے کہ سندھ کی بعض جگہوں پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ مویشیوں کے گوشت اور دودھ سے یہ وائرس انسانوں کو متاثر کر رہا لیکن دراصل اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بیماری مویشیوں کا علاج

علاج کے حوالے سے ڈاکٹر سولنگی کا کہنا تھا کہ مویشیوں کے مالکان کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جن سے وہ بیمار مویشیوں کے باقاعدگی سے زخم دھوئیں انہیں اینٹی   بائیوٹکس اور بیمار مویشیوں کو الگ رکھا جائے

                                                                 تحریر                       :                                                             محمد عامر

0 Comments:

Post a Comment