امریکا کا اے آر وائی کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کیخلاف مقدمات پر اظہار تشویش

امریکا نے اے آر وائی کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کے خلاف مقدمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافتی آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اے آر وائی کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کے خلاف مقدمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی معاشرے کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ امریکا پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافتی آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اے آر وائی کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف پر مقدمات پر ملکی اور غیر ملکی صحافتی تنظیموں نے بھی بھرپور آواز اٹھائی ہے۔

صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا ہے کہ ہیڈ آف نیوز اے آر وائی عماد یوسف کا معاملہ صحافیوں کی کمیٹی میں لایا جائے،آج ایک صحافی کو سزاملی توکل کوئی صحافی محفوظ نہیں ہوگا۔

صدر پی ایف یوجے نے عدالت سے گزارش کی ہے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں نیوز کے سسٹم کو سمجھا جائے، اس کے بعد عماد یوسف کے بارے میں فیصلہ دیا جائے۔

کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای ) نے بھی اے آر وائی کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کیخلاف بغاوت کے مقدمے میں چارج شیٹ کی مذمت کی ہے۔

صدر سی پی این ای کاظم خان نے کہا ہے ایسی چارج شیٹ آزادی اظہار پر گھناؤنا وار ہے، حکومت صحافیوں کو تختہ مشق بنانے سے باز رہے۔

کاظم خان نے اپیل کی کہ صدر اور چیف جسٹس ہیڈ آف اے آر وائی نیوز کیخلاف مقدمہ ختم کرائیں، مقدمہ ثابت کرتا ہے پاکستان میں بولنا جرم اور سوال اٹھانا گناہ ہے۔

اے آر وائی کے سینئر وائس پریذیڈنٹ عماد یوسف پر عائد سنگین دفعات پر ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرزاینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایمنڈ اعلامیہ میں کہا گیا کہ کسی رہنما کےبیان پر چینل سے وابستہ افراد کیخلاف مقدمے  ہونا سوالیہ نشان ہے اور مقدمےمیں عمرقید یا سزائے موت کی دفعہ شامل کرنا فاشزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایمنڈ کا عماد یوسف پرعائد سنگین دفعات پر تشویش کا اظہار

ایمنڈ اعلامیہ میں کہا گیا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، مگر قانون کی آڑ میں غیرقانونی ہتھکنڈے بدنیتی کا مظہر ہے۔ ایسے ہتھکنڈے آزادی اظہار رائے سلب کرنے اور زباں بندی کی کوشش ہیں۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/kFnSuIw جہانزیب علی

0 Comments:

Post a Comment